اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق دبئی میں فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما محمود المبحوح کو قتل کرنے کی منظوری اسرائیلی وزیر اعظم نے دی تھی جبکہ موساد کے قاتل اسکواڈ نے دبئی جانے کیلئے برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کےسفارتی پاسپورٹ استعمال کئے ۔ محمود المبحوح حماس کے عسکری ونگ کے بانی تھے جن کی لاش 20 جنوری کو دبئی کے ایک ہوٹل میں ملی تھی ۔
ان کے قتل کی منظوری اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے دی تدی اس کا انکشاف برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے کیا ہے ۔ اخبار کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم موساد کے ہیڈکوارٹرز گئے تھے جہاں انہوں نے ہٹ اسکواڈ کے ارکان سے ملاقات کی ۔
موساد کے سربراہمیئر ڈگان نے وزیر اعظم کو محمود المبحوح کے قتل کی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا اور اسرائیلی وزیر اعظم نے اس دہشت گردانہ کارروائی کی باضابطہ منظوری دی ، اس ملاقات کے فوراً بعد قاتل گروپ دبئی روانہ ہوا تھا ۔
اخبار کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود کے جسم پر بے ہوش کرنے والی گن کے نشانات پائے گئے تھے ۔ ان کی ناک پر خون کے ذرات بھی ملے جو ممکنہ طور پر دم گھٹنے کی وجہ سے ہوسکتے ہیں ۔
دوسری جانب دبئی پولیس کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ضاحی خلفان نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ موساد کے قاتل اسکواڈ نے دبئی آنے کے لئے برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کےسفارتی پاسپورٹ استعمال کئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دبئی پولیس کے پاس ایسی معلومات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ محمود المبحوح کے قتل میں موساد ننانوے فیصد ملوث ہے ۔
152/